Monday, 3 October 2022

عجیب خواب تھا دونوں تھے اک لباس میں ہم

 عجیب خواب تھا دونوں تھے اک لباس میں ہم

بجھے پڑے تھے دِیے اور ان کے پاس میں ہم

اک ایک پل کی خبر ہے ہمیں ان آنکھوں کی

کئی برس سے ہیں اس قریۂ اداس میں ہم

پرندگان انہیں گھونسلوں میں لے گئے تھے

تلاش کرتے رہے جگنووں کو گھاس میں ہم

نجانے کتنی شبیں ناتواں سے کندھوں پر

اٹھائے پھرتے رہے اک سحر کی آس میں ہم

پڑے نہ کم کبھی چادر جو پاؤں پھیلائیں

ملائیں خون پسینہ اگر کپاس میں ہم

دکھائی دیتی ہیں روشن ہماری آنکھیں ہمیں

نگاہِ یار! بتا، مبتلا ہیں یاس میں ہم


شاہجہان سالف

No comments:

Post a Comment