Sunday, 6 November 2022

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں

 خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں 

قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں 

کس کو فرصت جو مِری بات سنے زخم گنے 

خاک ہوں خاک اڑانے کے لیے زندہ ہوں 

لوگ جینے کے غرض مند بہت ہیں، لیکن 

میں مسیحا کو بچانے کے لیے زندہ ہوں 

روح آوارہ نہ بھٹکے یہ کسی کی خاطر 

سارے رشتوں کو بھلانے کے لیے زندہ ہوں 

خواب ٹوٹے ہوئے روٹھے ہوئے لمحے وہ قمر 

بوجھ کتنے ہی اٹھانے کے لیے زندہ ہوں


قمر اقبال

No comments:

Post a Comment