زخم پر زخم ہے وار پر وار ہے
عشق آزار تھا،۔ عشق آزار ہے
تم سے ہو کے الگ دل نہیں لگ رہا
کون سا یہ مگر آخری بار ہے
کون گھونپے چُھرا درد کی پیٹھ میں
روح زخمی ہے، اور ضبط بیدار ہے
جائیے، جائیے، روٹھ کر جائیے
ہاں مگر اس کا کیا؟ جو گرفتار ہے
اس دفعہ آپ اپنے مقابل ہیں ہم
آپ سے اب نہیں خود سے تکرار ہے
روئیے، روئیے، لگ کے اپنے گلے
ہے نہ مونس کوئی اور نہ غمخوار ہے
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment