ہم اپنے نام سے ہرگز کہیں جانے نہیں جاتے
تمہارا نام نہ لیتے تو پہچانے نہیں جاتے
کبھی جو بھولے بھٹکے سے بھی میخانے نہیں جاتے
یہ نہ سمجھو کہ ان کے پاس پیمانے نہیں جاتے
کسی کے دل میں کیا ہے ماتھے پہ لکھا نہیں ہوتا
کہ اپنے لوگ بھی تو ہم سے پہچانے نہیں جاتے
اندھیرے رہبری کرتے ہیں پروانوں کی شمع تک
کہ دن میں شمع کے نزدیک پروانے نہیں جاتے
مِرے پائے طلب مجھ کو تمہارے در پہ لے آئے
کسی اور در پہ اب ہم ہاتھ پھیلانے نہیں جاتے
انہیں چُگنے کو اُڑ کر دور تک جانا ہی پڑتا ہے
کسی بھی گھونسلے میں خود بخود دانے نہیں جاتے
ہماری منزل مقصود تو ہے قبر سے آگے
وہاں تک بھی ہمیں یہ لوگ پہنچانے نہیں جاتے
مِرے پر سوز نغمے ترجمانی ہیں محبت کی
ہم ان کی بزم میں یوں ہی غزل گانے نہیں جاتے
کبھی جب زخم لگتے ہیں تو کانٹے چٹکی بھرتے ہیں
گلوں کے گل نما خنجر تو پہچانے نہیں جاتے
حسینوں کی نمائش میں محبت تو نہیں دکھتی
یہ پہچانے تو جاتے ہیں مگر جانے نہیں جاتے
محبت کے پجاری اپنی پوجا ایسے کرتے ہیں
صنم خانے چلے جاتے ہیں بتخانے نہیں جاتے
کئی راز محبت دل میں پوشیدہ ہی رہتے ہیں
یہ گوہر جوہری سے بھی تو پہچانے نہیں جاتے
نچھاور جان کرنے کو یہ ساحل اس پہ جاتے ہیں
کہ جلنے کے لیے شمع پہ پروانے نہیں جاتے
ساحل اجمیری
ڈاکٹر بی آر ڈیوڈ
Dr. Bliss Armstrong David
No comments:
Post a Comment