Wednesday, 9 November 2022

ہم اپنے نام سے ہرگز کہیں جانے نہیں جاتے

ہم اپنے نام سے ہرگز کہیں جانے نہیں جاتے

تمہارا نام نہ لیتے تو پہچانے نہیں جاتے

کبھی جو بھولے بھٹکے سے بھی میخانے نہیں جاتے

یہ نہ سمجھو کہ ان کے پاس پیمانے نہیں جاتے

کسی کے دل میں کیا ہے ماتھے پہ لکھا نہیں ہوتا

کہ اپنے لوگ بھی تو ہم سے پہچانے نہیں جاتے

اندھیرے رہبری کرتے ہیں پروانوں کی شمع تک

کہ دن میں شمع کے نزدیک پروانے نہیں جاتے

مِرے پائے طلب مجھ کو تمہارے در پہ لے آئے

کسی اور در پہ اب ہم ہاتھ پھیلانے نہیں جاتے

انہیں چُگنے کو اُڑ کر دور تک جانا ہی پڑتا ہے

کسی بھی گھونسلے میں خود بخود دانے نہیں جاتے

ہماری منزل مقصود تو ہے قبر سے آگے

وہاں تک بھی ہمیں یہ لوگ پہنچانے نہیں جاتے

مِرے پر سوز نغمے ترجمانی ہیں محبت کی

ہم ان کی بزم میں یوں ہی غزل گانے نہیں جاتے

کبھی جب زخم لگتے ہیں تو کانٹے چٹکی بھرتے ہیں

گلوں کے گل نما خنجر تو پہچانے نہیں جاتے

حسینوں کی نمائش میں محبت تو نہیں دکھتی

یہ پہچانے تو جاتے ہیں مگر جانے نہیں جاتے

محبت کے پجاری اپنی پوجا ایسے کرتے ہیں

صنم خانے چلے جاتے ہیں بتخانے نہیں جاتے

کئی راز محبت دل میں پوشیدہ ہی رہتے ہیں

یہ گوہر جوہری سے بھی تو پہچانے نہیں جاتے

نچھاور جان کرنے کو یہ ساحل اس پہ جاتے ہیں

کہ جلنے کے لیے شمع پہ پروانے نہیں جاتے


ساحل اجمیری

ڈاکٹر بی آر ڈیوڈ

Dr. Bliss Armstrong David

No comments:

Post a Comment