Friday, 4 November 2022

گناہ گاروں کا روز محشر شفیع خیرالانام ہو گا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گناہ گاروں کا روزِ محشر شفیع خیرالانام ہو گا

دلہن شفاعت بنے گی دلہا نبی علیہ السلام ہو گا

کبھی تو چمکے گا نجمِ قسمت ہلال ماہِ تمام ہو گا

کبھی تو ذرے پہ مہر ہو گی وہ مہر ادھر خوش خرام ہو گا

پڑا ہوں میں ان کی رہگزر میں پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا

دل و جگر فرشِ رہ بنیں گے یہ دیدہ مشقِ خرام ہو گا

وہی ہے شافع وہی مشفع اسی شفاعت سے کام ہو گا

ہماری بگڑی بنے گی اس دن وہی مدارالمھام ہو گا

انہیں کا منہ سب تکیں گے اس دن جو وہ کریں گے وہ کام ہو گا

دہائی سب ان کی دیتے ہوں گے انہیں کا ہر لب پہ نام ہو گا

انا لھا کہہ کے عاصیوں کو وہ لیں گے آغوشِ مرحمت میں

عزیز، اکلوتا جیسے ماں کو، انھیں ہر اک یوں غلام ہو گا

اُدھر وہ گرتوں کو تھام لیں گے اُدھر پیاسوں کو جام دیں گے

صراط و میزان و حوضِ کوثر یہیں وہ عالی مقام ہو گا

کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے

وہ پائے نازک پہ دوڑنا اور بعید ہر اک مقام ہو گا

ہوئی جو مجرم کو بازیابی تو خوفِ عصیاں سے دھج یہ ہو گی

خمیدہ سر، آبدیدہ آنکھیں، لرزتا ہندی غلام ہو گا

حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا کھڑے ہی رہنے سے کام ہو گا

نگاہِ لطف و کرم اٹھے گی تو جھک کے میرا سلام ہو گا

خدا کی مرضی ہے ان کی مرضی، ہے ان کی مرضی خدا کی مرضی

انہیں کی مرضی پہ ہو رہاں ہے، انہیں کی مرضی پہ کام ہو گا

جدھر خدا ہے اُدھر نبیؐ ہے، جدھر نبیؐ ہے اُدھر خدا ہے

خدائی بھر سب اُدھر پھرے گی، جدھر وہ عالی مقام ہو گا

اسی تمنا میں دم پڑا ہے، یہی سہارا ہے زندگی کا

بُلا لو مجھ کو مدینے سرور! نہیں تو جینا حرام ہو گا

حضورِ روضہ ہوا جو حاضر تو اپنی سج دھج یہ ہو گی، حامد

خمیدہ سر، آنکھ بند، لب پر مِرے درود و سلام ہو گا


حامد رضا خاں بریلوی

No comments:

Post a Comment