Tuesday, 8 November 2022

وہ مسافر ہوں مری سمت سفر کوئی نہیں

وہ مسافر ہوں مِری سمت سفر کوئی نہیں

زندگی کا بوجھ کاندھوں پر ڈگر کوئی نہیں

سچ کو تنہا کر گیا آخر سیاست کا ہُنر

جُھوٹ والے سب اُدھر ہیں اور اِدھر کوئی نہیں

راہ گُم ہے، دُور منزل اور اندھا راستہ

چل رہے ہیں ساتھ، سامانِ سفر کوئی نہیں

آ مصیبت زندگی کی میں نبھاؤں گا تُجھے

فکر مت کر کیا ہُوا جو تیرا گھر کوئی نہیں

اب کہاں وہ جلوہ آرائی، کہاں وہ شوقِ دِید

شہر میں اب اہلِ دل، اہلِ نظر کوئی نہیں

آپ ہی کے پاس ہیں دل لینے کے سارے ہُنر

ہم کو بھی تسلیم، ہم سا بے ہُنر کوئی نہیں

کھوکھلے نعرے بدل سکتے نہیں تقدیر کو

رہنمائے با عمل اپنا سحر! کوئی نہیں


عبدالجبار سحر​

No comments:

Post a Comment