Tuesday, 1 November 2022

ہم جو ہر بار تیری بات میں آ جاتے ہیں

 ہم جو ہر بار تیری بات میں آ جاتے ہیں 

گھوم پھر کر اسی اوقات میں آ جاتے ہیں 

جب اسے باقی نہیں رہتی ضرورت میری

درجنوں عیب میری ذات میں آ جاتے ہیں 

جا پہنچتے ہیں جہاں رزق بلاتا ہے ہمیں 

گھر سے چلتے ہیں مضافات میں آ جاتے ہیں 

ہجر کے دن تو عموما بھی نہیں ہیں آساں

اور مجھ پر یہی برسات میں آ جاتے ہیں 

ہم ستارے ہیں میسر نہیں آتے دن میں 

عشق ذادوں کے لیے رات میں آ جاتے ہیں 

وہ ہاتھ کیا  ہاتھ میں آتا ہے میرے 

سارے حالات میرے ہاتھ میں آ جاتے ہیں 


نعیم عباس ساجد

No comments:

Post a Comment