جدید ہو گیا جب سے لباس لفظوں کا
غزل پہ چھایا ہے خوف و ہراس لفظوں کا
کبھی اداس کبھی بدحواس لفظوں کا
ہمیں تو کھیل ہی آتا ہے راس لفظوں کا
پھر انتقاماً اسے عام کر دیا ہم نے
جو انتخاب ہمارا تھا خاص لفظوں کا
تصورات بھی پھرتے ہیں تن چھپائے ہوئے
زباں نے پہنا ہے جب سے لباس لفظوں کا
کتاب گھر میں تماشائی خامشی ہوں میں
ہے اک ہجوم میرے آس پاس لفظوں کا
ہے ایک قصر سخن عشق کی ریاست میں
نصیب ہے جو یہ مجھ کو نِواس لفظوں کا
میری غزل کو نئے زخم دینے آیا ہے
گروہ بھیجا ہے اس نے اداس لفظوں کا
لو آج دیکھو وہی ہے سخن کا شہزادہ
بنا ہوا تھا جو مدت سے داس لفظوں کا
ہم عشق والے تو احساس کے پجاری ہیں
کوئی نہیں ہے یہاں دل شناس لفظوں کا
طارق عثمانی
No comments:
Post a Comment