تہذیبِ ناسپاس کے اے سرکشیدہ شاہ
ہتھیار جوہری تِرے، برقی تِری سپاہ
جتنا جدید ہے تِرا سامانِ جنگ لا
جو ڈھونڈ لے نشانہ وہ تیر و تفنگ لا
یہ بھی درست تیرا فضاؤں پہ راج ہے
نمرود کی خدائی، رعونت کا تاج ہے
لیکن نہ ہو گا، کل وہ جو معمول آج ہے
ممکن ہو جتنی آگ تو برسا زمین پر
آتش میں کود جانا بھی میرا مزاج ہے
میں نے بھڑکتی آگ کو گلزار کر دیا
خوں سے زمین سینچی ہے، فصلوں کو سر دیا
تاریخ کو بھی اپنے لہو سے کیا رقم
اسباب روشنی کے بھی میں نے کیے بہم
بچ کر نہ جا سکے گا تو اللہ کی قسم
سپین و شام و قیصر و کسریٰ بھی ہیں گواہ
پائی کہیں نہ دشمنِ اسلام نے پناہ
میں نے لگائی خرمنِ بُو جہل میں بھی آگ
قائم ہے میرے دم سے ہی تہذیب کا سہاگ
آئینِ نو کا راگ تِرا بے سُرا ہے راگ
تو اور مجھ سے معرکہ کچھ ہوش کر تو جاگ
ہرکارہ ظلمتوں کا تو، میں آفتاب ہوں
صدیوں سے تیرے واسطے پا بہ رکاب ہوں
آیا ہوں میں نیا درِ خیبر اکھاڑنے
تیرا سیاہ قصرِ ابیض اجاڑنے
اجداد کی صفات کا میں بھی امین ہوں
ایماں مِرا قبیلہ ہے، ابنِ یقین ہوں
خیام قادری
No comments:
Post a Comment