دور کہیں اک تارہ ٹوٹا، یاد کے دشت میں آگ لگی ہے
راکھ کے ڈھیر میں آسودہ تھی، جو چنگاری چونک اٹھی ہے
چاند سسک کر سوچ رہا تھا کیا انجام دِیے کا ہو گا
رات کی کشتی دھڑکن دھڑکن ہچکی لے کر ڈوب گئی ہے
پھول خزاں کی وحشت خیزی سہتے سہتے خاک ہوئے
اک کاٹنے پہ پاگل تتلی بیٹھی جھولا جھول رہی ہے
آس کی ڈوری تھام کے پگلی اندھے غار میں چلتی گئی
واپس آنے کا جب سوچا دیکھا ڈوری ٹوٹ چکی ہے
دانش کے پُر پیچ سفر میں سوچا تجھ کو بھول گئے ہیں
گردش کی زنجیر ہے ایسی سامنے پھر وہ تیری گلی ہے
سید نصیر شاہ
No comments:
Post a Comment