Tuesday, 8 November 2022

جو مرا خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

 جو مرا خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

تو مِری بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

کوئی دل بھلا سکا ہو اگر اپنی دھڑکنوں کو

تو کوئی مثال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

یہ زمیں یہ آسماں کیا مرے بھولنے کو کم ہیں

یہ کوئی سوال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

یہ زوالِ عقل بہتر کہ بھلا سکوں نہ تجھ کو

وہ اگر کمال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

جو کبھی یہ حال بھی ہو کہ میں آپ کو بھلا دوں

تو کبھی وہ حال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

میں جہانِ شور و شر میں کبھی رہ سکوں نہ زندہ

اگر احتمال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

تری یاد زخم ہے تو یہی زخم اور یہی دل

جو وہ اندمال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

تِری یاد ہجر ہے تو تِرے ہجر میں مروں گا

وہ اگر وصال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

جو یہ میری زندگی ہے کہ تجھے میں یاد رکھوں

تو وہ انتقال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں

مری موت بن کر آئے وہ خیال، جانِ بِسمل

جو مجھے خیال بھی ہو کہ تجھے میں بھول جاؤں


بسمل سعیدی

No comments:

Post a Comment