جاتے لمحے کو بھی بے کار نہیں کرنا ہے
زِیست کو اور بھی دُشوار نہیں کرنا ہے
دِل اگر دے ہی دیا ہم نے بِنا شرطوں کے
کچھ بھی ہو جائے اُسے بار نہیں کرنا ہے
شکوہ اپنوں سے ہُوا کرتا غیروں سے نہیں
بے وفا کبھی اظہار نہیں کرنا ہے
تم جو تھے دوست تو دُشمن کی ضرورت کیا تھی
اب کسی کو ہمیں غم خوار نہیں کرنا ہے
تم سے وابستہ میرے دل کا تعلق ٹُوٹا
اب ہمیں پیار کا اقرار نہیں کرنا ہے
تم نے ہرجائی کو پلکوں پہ بٹھایا کیوں سحر
پیار کو راہ کی دِیوار نہیں کرنا ہے
نرگس جمال سحر
No comments:
Post a Comment