عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صد مرحبا آقاﷺ یہ بڑائی تِرےﷺ در کی
ہوتی ہی نہیں ختم کمائی ترےﷺ در کی
محتاج ہیں سب جن و بشر بھی ترے گھر کے
"محتاج ہے یہ ساری خدائی ترےﷺ در کی"
ہر شے کی ہے تخلیق تری ذات کا صدقہ
"محتاج ہے یہ ساری خدائی ترےﷺ در کی"
شاہان جہاں بھی ہیں ترے در کے سوالی
"محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی"
مہکاتی ہے پر روز مِری روح کے غُنچے
خوشبو ہے صبا آج بھی لائی ترے در کی
ملتی ہیں شفائیں ہمیں اس خاک کے صدقے
جو خاک شفاء ہم نے اٹھائی ترے در سے
رتبہ جو کبھی ملتا نہیں شاہ جہاں کو
کرتی ہے عطا ہم کو گدائی ترے در کی
سر آنکھوں پہ رکھا ہے اسے میں نے ہمیشہ
جس دن سے ملی مجھ کو چٹائی ترے در کی
چنتے ہیں مسلسل مِرے الفاظ ملائک
ہے صبح و مسا مدح سرائی ترے در کی
اس ریش مبارک میں چمکتے ہیں ستارے
سلمان نے کی جس سے صفائی ترے در کی
محشر سے کوئی کم تو نہیں منکر دیں نے
جس طرح سے لوٹی ہے کمائی ترے در کی
زاہد کی دعاؤں میں نہ سجدوں میں اثر ہے
جس روز سے میراث گنوائی ترے در کی
زاہد شمسی
No comments:
Post a Comment