Monday, 7 November 2022

کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے

 کسی کے روگ میں بھیگی عبادت بھاڑ میں جائے

ضرورت کی عبادت ہو، ضرورت بھاڑ میں جائے

میری تجویز تھی چندا مگر تُو مانتا کب ہے

تو یہ لے روشنی اپنی یہ طاقت بھاڑ میں جائے

محبت یہ نہیں ہوتی کہ عزت پیش کر دیجیے

لٹی ہوں عصمتیں جس میں محبت بھاڑ میں جائے

گلے جو کاٹ کر اپنے گھروں کو روشنی بخشیں

تو ایسی سنگدل ظالم قیادت بھاڑ میں جائے

جہاں گھر بار لٹتے ہوں محبت بین کرتی ہو

تو ایسے شہر، گلیاں، گھر، ریاست بھاڑ میں جائے

گریباں چاک کر کے دربدر پھرنے سے کیا حاصل

محبت گر یہی ہے تو محبت بھاڑ میں جائے

رقیبوں کی طرح جو گھورتا رہتا ہے محفل میں

اب ایسے شخص سے تنہا رفاقت بھاڑ میں جائے

کسی نے بھی جو اس کی آنکھ سے قطرہ گرا دیکھا

مجھے سہنا ہے سہہ لوں گا اذیت بھاڑ میں جائے


عاصم تنہا

No comments:

Post a Comment