تمہیں درختوں پہ نام لکھنے ہیں دل بنانے ہیں دیکھ لینا
یہ پیڑ یادوں کے صرف ایندھن کے کام آنے ہیں دیکھ لینا
تمہیں کہا تھا نا دیکھ لینا یہ ضبط پھر سے نہ ٹوٹ جائے
یہ اشک مٹی میں رُل نہ جائیں پرائے شانے ہیں دیکھ لینا
جو دل کیاری میں تم نے بویا تھا، درد پل کر شجر ہوا ہے
جو شاخِ گِریہ پہ پھول آئے ہیں، بس دکھانے ہیں دیکھ لینا
اگر اداسی، ملال و وحشت کے ساتھ تم بھی نبھا سکو تو
تمہاری مرضی ہے دل حویلی کے چار خانے ہیں دیکھ لینا
غرور پرور یہ سرد لہجہ ہے عشق دریا کو ہیچ صاحب
تجھ ایسے پتھر تو ایک لمحے میں ٹوٹ جانے ہیں دیکھ لینا
ہمارے بچوں سے کہنا دشمن ہماری قبروں سے ڈر گیا تھا
ہماری تُربت پہ آٹھ پشتوں نے گُل بچھانے ہیں دیکھ لینا
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment