Tuesday, 6 December 2022

غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا

 غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا

جب آیا بزم میں فطرت شناس لفظوں کا

نہیں کسی نے سنی التماس لفظوں کی

اسی لیے تو ہے چہرہ اداس لفظوں کا

یقین کون کرے آج قسموں وعدوں پر

نہیں ہے اب تو کسی کو بھی پاس لفظوں کا

ہے محترم گیت جو وہ گا رہا ہے محفل میں

دریدہ کرنے لگا ہے لباس لفظوں کا

وہ پھر جگانے لگا فتنہ اپنے بھاشن سے

دلوں پہ چھایا ہے خوف و حراس لفظوں کا

خیال و لفظ کی کیا خوب ہے جُگل بندی

غزل میں خوب ہوا انعکاس لفظوں کا


سراج الدین گلاؤٹھوی

No comments:

Post a Comment