غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا
جب آیا بزم میں فطرت شناس لفظوں کا
نہیں کسی نے سنی التماس لفظوں کی
اسی لیے تو ہے چہرہ اداس لفظوں کا
یقین کون کرے آج قسموں وعدوں پر
نہیں ہے اب تو کسی کو بھی پاس لفظوں کا
ہے محترم گیت جو وہ گا رہا ہے محفل میں
دریدہ کرنے لگا ہے لباس لفظوں کا
وہ پھر جگانے لگا فتنہ اپنے بھاشن سے
دلوں پہ چھایا ہے خوف و حراس لفظوں کا
خیال و لفظ کی کیا خوب ہے جُگل بندی
غزل میں خوب ہوا انعکاس لفظوں کا
سراج الدین گلاؤٹھوی
No comments:
Post a Comment