نہیں دکھیں گے جو ہر دم دکھائی دیتے ہیں
انہیں بتاؤ ابھی ہم دکھائی دیتے ہیں
تم اہلِ عشق کی گنتی شروع مت کرنا
یہ پہلے پہلے بڑے کم دکھائی دیتے ہیں
ہمارا بجھنا تو طے تھا تمہارے بعد مگر
چراغ کس لیے مدھم دکھائی دیتے ہیں
اگر وہ آنکھ اٹھی ہے تو سامنے سے ہٹو
کبھی کبھی تو اسے ہم دکھائی دیتے ہیں
میں بڑھنے لگتا ہوں ان سیدھے بازوؤں کی طرف
پھر اس کی آنکھ میں کچھ خم دکھائی دیتے ہیں
عقیل عباس چغتائی
No comments:
Post a Comment