Thursday, 8 December 2022

اس کے سر پہ رکھی گٹھڑی بھاری ہوتی جا رہی تھی

 گٹھڑی


اس کے سر پہ رکھی گٹھڑی بھاری ہوتی جا رہی تھی

مگر وہ چل رہا تھا، خود سے کہہ رہا تھا؛ چند قدم، بس چند قدم

اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا 

مگر وہ چل رہا تھا چند قدم، بس چند قدم

جیب میں چند سکے اور مرتی امیدیں

گٹھڑی بھاری ہو رہی تھی، چند قدم، بس چند قدم

یرقان زدہ پیلی آنکھیں اور تین دن کا خالی پیٹ

گٹھری بھاری ہو رہی تھی، چند قدم، بس چند قدم

کنواری بیٹی کے کان پیتل کو ترستے تھے 

مگر بالوں میں چاندی آ چکی تھی

گٹھڑی بھاری ہو رہی تھی، چند قدم، بس چند قدم

یار جلدی کرو، تم سے اک گٹھڑی نہیں اٹھائی جا رہی

جی جی سرکار چل رہا ہوں

مگر یہ بھاری ہوتی جا رہی ہے، کیا ہے اس میں؟

بیٹی کی شادی کے کپڑے ہیں

گٹھڑی اس قدر بھاری ہو گئی کہ 

اب اس میں اٹھانے کی سکت نہ رہی 

اسے سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا

وہ دھڑام سے گِرا اور ہر بوجھ سے آزاد ہو گیا


عثمان نیاز

No comments:

Post a Comment