خدا آباد رکھے اور بھلا اس بام کا ہو
ہمیں وہ زخم دیتا ہے سدا جو کام کا ہو
تھکن کس کی زیادہ ہے دلوں سے فی زمانہ
تقابل دھڑکنوں سے گردشِ ایام کا ہو
ہمارے بیچ مذہب نے لکیرِ ہجر کھینچی
میں کہتا تھا؛ خدا کی بن، وہ کہتی؛ رام کا ہو
ردائے غم ادب سے اوڑھتا ہوں میں کچھ ایسے
کہ جیسے کپڑا زائر کے لیے احرام کا ہو
وہ چہرہ دیکھ جس کا صبحدم صبحیں کریں ورد
وہ آنکھیں ڈھونڈ جن میں رنگ گہری شام کا ہو
تھکن کا سلسلہ ٹوٹے بدن سے بار اُترے
کم از کم موت جیسا وقت تو آرام کا ہو
نجف، مکہ، مدینہ، کربلا، مشہد کرو یاد
جہاں بھی تذکرہ حیدر امیرِ شام کا ہو
فقیہہ حیدر
No comments:
Post a Comment