Thursday, 8 December 2022

اب ان آنکھوں میں ترا خواب نہیں آ سکتا

 اب ان آنکھوں میں تِرا خواب نہیں آ سکتا

جس طرح جیب میں تالاب نہیں آ سکتا

کیسے ممکن ہے تِرے شہر میں رہنے لگ جاؤں

روہی کو چھوڑ کے پنجاب نہیں آ سکتا

مجھ پہ گزرا ہے وہ باقاعدہ وصل ایسا کہ اب

میرے حصے میں کوئی خواب نہیں آ سکتا

اس کھلونے کی خریداری میں عمریں لگیں گی

بیٹا! ان پیسوں میں مہتاب نہیں آ سکتا

کیا ہم اک دوسرے کی خوشبو نہیں لے سکتے

کیا کبھی دشت میں سیلاب نہیں آ سکتا

وہ مِرے خواب بھلا دیکھے تو دیکھے کیونکر

کسی ہندسے پہ تو اعراب نہیں آ سکتا

سرخرُو عشق کی پرکار میں اے خالقِ عشق

کیا مِرا حلقۂ احباب نہیں آ سکتا


آل عمر

No comments:

Post a Comment