حیات دردِ مُسلسل بھی، اِنتشار بھی ہے
قرار ڈھونڈنے والو! کہیں قرار بھی ہے؟
شمیم گُل سے سُلگتا ہے دامنِ احساس
کہ تیری نکہتِ پوشاک شعلہ بار بھی ہے
زمانہ خُود نظر آتا نہیں زمانے کو
کہ دل کا آئینہ آلودۂ غُبار بھی ہے
زباں سے کہیۓ تو کیوں کہیء اس کی محفل میں
وہ دل کا حال جو صُورت سے آشکار بھی ہے
یہ چاہتا ہے کہ کونین کا خُدا بن جائے
وہ آدمی جسے تھوڑا سا اختیار بھی ہے
بہار لے گئی جن وحشیوں کو صحرا میں
چمن کو اُن کے پلٹنے کا انتظار بھی ہے
ٹھہر کے دیدۂ نرگس میں اوس کی بوندیں
یہ کہہ رہی ہیں کہ گُل ہنس کے اشکبار بھی ہے
نگاہِ رشک سے دیکھو نہ اہلِ ثروت کو
بہار ہے، مگر اس کا کچھ اعتبار بھی ہے؟
زمانہ ایک کسوٹی ہے دوستوں کے لیے
ہیں رازدار بہت، کوئی غمگسار بھی ہے؟
ملی ہے عشق سے سیما جسے بھی دولتِ غم
اُسی کو سوزشِ ہر زخم خُوشگوار بھی ہے
سیما فریدی
No comments:
Post a Comment