جناب قیس سے پوچھو کے دلبری کیا ہے
تم اس سے پوچھ رہے ہو بہادری کیا ہے
دشمنی کیسے بتائے گی دوستی کیا ہے
اندھیرا کب یہ بتایا ہے روشنی کیا ہے
یہ شعر فہمی ہے کیا چیز شاعری کیا ہے
سخنوروں ںسے بھی پوچھو سخنوری کیا ہے
جو بے حجاب تجھے دیکھ لے کہیں جانا
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
ہاں والدین کو گھر سے نکال دیتے ہیں
اس عہد نو میں جہالت کی بھی کمی کیا ہے
امیر شہر فقیری مزاج رکھتا ہے
فقیرِ شہر دکھائے تونگری کیا ہے
خدا کی راہ میں سر بھی کٹانا پڑتا ہے
تمہیں یہ علم نہیں ہے پیعمبری کیا ہے
رضا حیدری
No comments:
Post a Comment