Wednesday, 7 December 2022

ہمارے سامنے جو مسکرا کے چلتے ہیں

ہمارے سامنے جو مسکرا کے چلتے ہیں

فراق یار میں وہ کروٹیں بدلتے ہیں

وہ جن کے آتش الفت سے دل پگھلتے ہیں

سو ان کی آنکھوں سے آنسو بجا نکلتے ہیں

وہ اور ہیں جو بہکتے ہیں جام پی پی کر

ہم اہل ظرف کے پی کر قدم سنبھلتے ہیں

تمہیں خدا نے بنایا ہے سنگ مرمر سے

تمہارے جسم پہ شمس و قمر پھسلتے ہیں

ہماری تشنہ لبی کا امام ساقی ہے

ہمارے جیسے سبھی میکدوں میں پلتے ہیں

نصیب ہوتی ہے اشعار میں فراوانی

زمین فکر پہ جب ایڑیاں مسلتے ہیں

تمہارے اشک بھی نازک مزاج ہیں جاناں

نکل کے آنکھ سے رخسار پر مچلتے ہیں

تو گویا ہو تو زمیں آسمان رقص کرے

تو چپ رہے تو زمانوں کے دل دہلتے ہیں

وہ ہو گیا ہے تکبر کی بیڑیوں میں اسیر

اسے خبر ہی نہیں آفتاب ڈھلتے ہیں

تمہارے جانے سے کلیوں کا دم نکلتا ہے

تمہارے آنے سے گلشن میں پھول کھلتے ہیں

مِرے عروج کا محور ہے سادگی میری

وہ اس لیے تو مِری سادگی سے جلتے ہیں


محور سرسوی

No comments:

Post a Comment