Wednesday, 7 December 2022

ان خرد مندوں نے میری جس قدر تضحیک کی

ان خرد مندوں نے میری جس قدر تضحیک کی

تیز تر اپنے جُنوں کی میں نے پھر تحریک کی

وا کروں گا میں زمانے پر درِ بابِ عدم

ایک دن تاریخ لکھ کر عرصۂ تاریک کی

مجھ سے ملنا ہے تو بل کھاتی وہ پگڈنڈی پکڑ

میرے گھر جاتی نہیں پکی سڑک نزدیک کی

آج پھر جانا پڑا تھا آئنے کے سامنے

آئنے نے آج پھر میری بڑی تضحیک کی

شہر کا ہر شخص دشمن لگ رہا ہے اب مجھے

میرے اندر پھیلی ہے ایسی وبا تشکیک کی

ہم کو دریوزہ گری بچپن سے سکھلائی گئی

چھوٹنی ممکن نہیں مشتاق عادت بھیک کی


حبیب الرحمٰن مشتاق

حبیب الرحمان مشتاق

No comments:

Post a Comment