نصابِ عشق میں بابِ وفا ضروری ہے
یہی نہیں ہے ضروری تو کیا ضروری ہے
تمہارا ہونا ضروری ہے، تو مِرا ہونا
بڑا ضروری تھا بے شک بڑا ضروری ہے
خراج مانگتا ہے انقلاب کا رستہ
یہ کربلا ہے، یہاں حادثہ ضروری ہے
یہ انتظار کنارے لگے یا پھر ڈوبے
ہو چاہے جو بھی مگر فیصلہ ضروری ہے
نعیم ضرار
No comments:
Post a Comment