دریا رستہ بھول گیا
سمت نما کی سوئی شاید مشرق مغرب گھوم گئی ہے
دریا رستہ بھول گیا ہے
خاک میں لت پت، پاگل دریا بستی بستی گھوم رہا ہے
دیوار نے انگلیاں رکھ کر اپنے نتھنے بھینچ لیے ہیں
دروازوں کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی ہیں
بستی کی دہلیز پہ بچے آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں
زندہ لاشے اپنا اپنا بوجھ اٹھائے بھاگ رہے ہیں
بوڑھی آنکھیں ڈوب رہی ہیں
دریا تیرے سمت نما کی ایسی تیسی
اپنا رستہ ناپ لے ورنہ گالیاں دوں گا
نصراللہ حارث
No comments:
Post a Comment