Tuesday, 11 April 2023

دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے

 دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے 

واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے 

میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا 

ایسا لگتا ہے مجھے اور رُلانا چاہے 

دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ 

مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے 

سیکڑوں لوگ تھے موجود سر ساحل شوق 

پھر بھی وہ شوخ مِرے ساتھ نہانا چاہے 

آج تک اس نے نبھایا نہیں وعدہ اپنا 

وہ تو ہر طور مِرے دل کو ستانا چاہے 

میں نے سلجھائے ہیں اس شوخ کے گیسو اکثر 

اب اسی جال میں مجھ کو وہ پھنسانا چاہے 

میں تو سمجھا تھا فقط ذہن کی تخلیق ہے وہ 

وہ تو سچ مچ ہی مِرے دل میں سمانا چاہے 

اس نے پھیلائی ہے خود اپنی علالت کی خبر 

وہ ضیا مجھ کو بہانے سے بلانا چاہے


ضیاء الحق قاسمی

No comments:

Post a Comment