Thursday, 13 April 2023

رکھ کے لب اسم محمد سے ہٹاتا بھی نہ تھا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھ کے لب اسمِ محمدﷺ سے ہٹاتا بھی نہ تھا

جب مجھے نامِ نبیﷺ ٹھیک سے آتا بھی نہ تھا

تھام لیتا تھا کوئی وقتِ ملاقات جو ہاتھ

کیسا آقاؐ تھا کبھی ہاتھ چھڑاتا بھی نہ تھا

آپؐ اس کی بھی سُنا کرتے تھے پہروں باتیں

وہ جسے پاس کوئی اپنے بٹھاتا بھی نہ تھا

آپ ہی آپ اترتے تھے ملائک کے ہجوم

وہ عجب شاہ تھا، دربار سجاتا بھی نہ تھا

آپؐ پہلے ہی معافی اسے دے دیتے تھے

منتیں کر کے منانا جسے آتا بھی نہ تھا

آپؐ کاندھوں پہ نواسے لیے چل پڑتے تھے

گود میں جب کوئی بچوں کو اٹھاتا بھی نہ تھا


واجد امیر

No comments:

Post a Comment