Wednesday, 12 April 2023

کبھی پورا کبھی آدھا نظر آتا ہے مجھے

 کبھی پورا کبھی آدھا نظر آتا ہے مجھے

میرے اشعر تِرا سایہ نظر آتا ہے مجھے

یہ مِری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ موسم ہے کوئی

اب اجالے میں اندھیرا نظر آتا ہے مجھے

یہ بصارت ہے مِری یا کہ بصیرت میری

ایک پردہ پسِ پردہ نظر آتا ہے مجھے

جس سے ٹپکے گا مِری آنکھ کا آنسو اک دن

آسماں کا وہی کونہ نظر آتا ہے مجھے

تیری ہر بات مجھے جان سے پیاری ہے بہت

تیری ہر بات میں دھوکہ نظر آتا ہے مجھے

اس کا مطلب ہے کہ حالات سنورنے لگے ہیں

اک پرندہ جو فضا میں نظر آتا ہے مجھے

میرا دکھ اب مِری برداشت سے باہر ہوا ہے

میری خواہش سے زیادہ نظر آتا ہے مجھے

تجھ کو معلوم ہے اس خواب کی تعبیر ہے کیا

چاند کے ساتھ ستارہ نظر آتا ہے مجھے

وہ جو تیار ہے ہر دم مِری ہمراہی کو

اپنی منزل سے وہ بھٹکا نظر آتا ہے مجھے

مجھ کو جنگل میں کہیں دور تلک جانا تھا

ہر طرف شہر کا نقشہ نظر آتا ہے مجھے

اب کہانی میں مِرا کوئی بھی کردار نہیں

تیرے اطوار سے خطرہ نظر آتا ہے مجھے

ایک صحرا ہے ابھی موج میں آنے والا

ایک دریا ہے کہ ٹھہرا نظر آتا ہے مجھے

تم محبت کو ابھی تک نہیں سمجھیں اتنا

ایک آسان طریقہ نظر آتا ہے مجھے

تُو نے گرداب کی صورت کو فقط دیکھا ہے

اس کے اندر سے کنارا نظر آتا ہے مجھے


سعید اشعر

No comments:

Post a Comment