یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے، اِدھر کیا ہے اُدھر کیا ہے
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے، وہ نیرنگِ نظر کیا ہے
نہ ہو جس سر میں سودا سرفروشی کا، وہ سر کیا ہے
نہ پُھونکے خِرمنِ ہستی تو وہ سوزِ جگر کیا ہے
تِرے انداز کے بِسمل ہیں ہم، ہم سے کوئی پوچھے
تِری بانکی ادا کیا ہے، تِری تِرچھی نظر کیا ہے
جہاں سامان وحشت کے، اسے وحشت سرا کہیے
جہاں اسبابِ ویرانی، وہ ویرانہ ہے گھر کیا ہے
گئے وہ اور یہ کہتے گئے؛ او، جذبِ دل والے
مجھے بھی دیکھنا ہے، جذبۂ دل کا اثر کیا ہے
مبارک عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment