Wednesday, 12 April 2023

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

 کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے 

وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے 

پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے 

نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے 

ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ 

کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے 

مرے وجود سے دھاگا نکل گیا ہے دوست 

میں بے شمار ہوا ہوں شمار ہوتے ہوئے 

ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک 

بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے 

وہ قید خانہ غنیمت تھا مجھ سے بے گھر کو 

یہ ذہن ہی میں نہ آیا فرار ہوتے ہوئے 


افضل خان

No comments:

Post a Comment