لوگوں کا سینے میں دھڑکتا ہو گا
میرا دل تو ہتھیلیوں میں رہتا ہے
جہاں تمہارا عطر مدّھم ہونے لگا ہے
تم پھر سے وہی سفر طے کر کے آؤ
راستے پہ چلتے ہوئے Endless ہمیں
پرانی باتوں کی، نئی یاد دہانی کرنی ہے
کچھ خاموشیاں، چند قہقہے، فراق کا لطف
دامنِ دل میں سمیٹ کر
اپنی اپنی زندگی میں لوٹ جائیں گے
فرح دیبا اکرم
No comments:
Post a Comment