Wednesday, 12 April 2023

ایسے موسم میں یوں افسردہ نہیں بیٹھتے ہیں

 ایسے موسم میں یوں افسردہ نہیں بیٹھتے ہیں 

چائے پیتے ہیں چلو چل کے کہیں بیٹھتے ہیں 

اپنا معیار زمانے سے الگ ہے کہ ہمیں 

پیار ملتا ہے جہاں جا کے وہیں بیٹھتے ہیں 

آج کچھ وقت ہے اور وقت امر کرنے کو 

کسی درویش کے حُجرے میں کہیں بیٹھتے ہیں 

لا کے قدموں میں ستارے نہ بچھا، رہنے دے 

ہم تو بیٹھیں گے جہاں خاک نشیں بیٹھتے ہیں 

جانے اس میز سے کیسی انہیں نسبت ہے کہ وہ 

جب کبھی آتے ہیں کیفے میں یہیں بیٹھتے ہیں 

چاہے جتنا بھی اندھیرا ہو مجھے خوف نہیں 

میری محفل میں کئی زہرہ جبیں بیٹھتے ہیں 

اب درختوں پہ پرندے ہوں کہ مُوڑھوں پہ بزرگ 

شام کے وقت اکیلے تو نہیں بیٹھتے ہیں 


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment