دور حاضر کے منصور کچھ ایسا کر دے
اپنا مُنکر ہو جا، دار کو رُسوا کر دے
شہری سپنا کتنا مہنگا ہوتا ہے ناں
اے دیہاتی سپنے کا تُو سودا کر دے
دشت گزارا ہے میں نے آنکھوں سے لیکن
دشت کی ہمت، آنکھ کا دریا صحرا کر دے
وہ کھڑکی جو باغ میں کُھلتی ہے شہزادی
اس پر آ کر اک جلوے کا صدقہ کر دے
ایک عطا کر بچپن کی دوپہریں مولا
دُوجا گاؤں کی بیری کا سایہ کر دے
فیاض بوستان
No comments:
Post a Comment