جانے والوں کی طرف ہاتھ بڑھا رکھے ہیں
ہم نے آنکھوں سے تبھی اشک جدا رکھے ہیں
جانتا ہوں کہ کبھی مل نہ سکوں گا تجھ سے
پھر بھی آنکھوں میں تِرے خواب سجا رکھے ہیں
جو لگاتے ہیں نئے زخم ہمیں، روزانہ
ہم نے وہ لوگ بھی سینے سے لگا رکھے ہیں
اس قدر آپ کے آنے کی خوشی ہے دیکھیں
ہم نے دن میں بھی سبھی دِیپ جلا رکھے ہیں
ایک تو پہلے ہی وحشت کی فراوانی ہے
پھر جو دستور زمانے نے بنا رکھے ہیں
تب سے وہ حسن کسی اور ہی جوبن پر ہے
جب سے ہونٹ اس نے یوں دانتوں میں دبا رکھے ہیں
تا کہ وہ دور سے پہچان لے اپنا شوزب
بس اسی واسطے پھر بال اڑا رکھے ہیں
شوزب حکیم
No comments:
Post a Comment