عریانی
برہنہ بانجھ سی شاخیں
بچانا خود کو کیا چاہیں
دھرا اک آشیاں رکھے
ہوس کے درمیاں رکھے
شکاری تاڑ میں جس کی
بہاریں آڑ میں جس کی
گِرانا جس کا ناحق ہے
تمہیں کیا فکر لاحق ہے
عبث پہرہ بٹھائے ہو
نظر بیٹھے جمائے ہو
کہ ان کی بے لباسی کو
کوئی کیا تار کر دے گا
کرے گا سبز ان کو اور
گلوں کو ہار کر دے گا؟
غدیر زہرا
No comments:
Post a Comment