کچھ کتابیں، تیری یادیں، اک قلم اور شاعری
میں، مِرا کمرہ، اندھیرا، آنکھ نم اور شاعری
یہ اثاثہ ہے مِرا، اس پر ہی اِتراتی ہوں میں
کرب، وحشت، اک اذیت، تیرا غم اور شاعری
خُلد میں حُوروں کو ٹُھکرا کر کہے گا رب سے وہ
مجھ کو ہے کافی فقط میرا صنم اور شاعری
آخری پیغام تھا اس کا کہ؛ اب راہیں جُدا
ساتھ میں تھی بُھول جانے کی قسم اور شاعری
لاریب کاظمی
No comments:
Post a Comment