Thursday, 6 July 2023

جوش ملیح آبادی (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 جوش ملیح آبادی

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898 کو متحدہ ہندوستان کے مردم خیز خطے ملیح آباد، لکھنؤ کے محلہ مرزا گنج کے ایک علمی اور متمول آفریدی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام شبیر احمد خاں تھا، جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر لیا گیا، جوش ملیح آبادی آپ کا قلمی نام ہے۔ جوش صاحب نے تقسیم ہند کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے 1958 میں کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش صاحب آخری عمر میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں غزل، نظم، نعت اور مرثیہ نگاری کے اس شہنشاہ نے 22 فروری 1982 کو اس جہانِ فانی کو الوداع کہا، آپ کو اسلام آباد میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔

تعلیمی قابلیت

جوش صاحب نے ابتدائی تعلیم لکھنو میں حاصل کی اس کے بعد 1914 میں سینئر کیمرج لیول کی تعلیم آگرہ سے حاصل کی، علمی گھرانے سے تعلق کے باعث لڑکپن سے ہی آپ کا رجحان عربی اور فارسی کی جانب مبذول ہو گیا۔ والد صاحب کی بے وقت موت کے بعد جوش ملیح آبادی مزید تعلیم جاری نہ رکھ رکھے۔

اعزازات

شاعر انقلاب 1938*

پدم بھوشن ایوارڈ 1954 (بھارت)*

حکومت پاکستان نے جوش صاحب کو بعد از مرگ اگست 2012 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا*

شاعری، ادبی و علمی پس منظر

آپ کے والد بشیر احمد خاں تخلص بشیر، دادا محمد احمد خاں اور پردادا فقیر محمد خاں بھی اردو کے معروف شاعر گزرے ہیں۔ جوش صاحب کی دادی بیگم محمد احمد خاں صاحبہ مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس لیے بجا طور کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے خاندان کا شمار کئی پشتوں سے شاعری سے رہا تھا۔ آپ کے بعد آپ کی پوتی تبسم ملیح آبادی (تبسم آفریدی) بھی باقاعدہ شاعری کرتی ہیں۔ جوش صاحب کا شمار اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شعراء میں ہوتا ہے۔ آپ نے عزیز لکھنوی سے شاعری کی اصلاح لی۔ جوش صاحب نے شروع میں غزلوں سے شروعات کی، لیکن جلد ہے آپ کا رجحان نظم کی نام مبذول ہو گیا۔ تحریک آزادی کے لیے ان کی مشہور عام نظم حسین اور انقلاب اور جاندار جوشِ خطابت کے باعث جوش صاحب کو ادبی حلقوں کی جانب سے شاعر انقلاب کا لقب دیا گیا۔ 

عملی زندگی کا آغاز

والد محترم کی وفات کے بعد کالج کی تعلیم مکمل نہ کر سکنے کے باعث جوش صاحب نے کم عمری میں دارالترجمہ عثمانیہ سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن اسے اپنی طبیعت کے مطابق نہ سمجھتے ہوئے چند سال بعد آپ واپس دہلی آ گئے اور وہاں کلیم نام سے ایک ادبی رسالہ جاری کیا۔ بعد ازاں آپ سرکاری رسالے آج کل کی ادارت کے منصب پر بھی تعینات رہے۔ آپ کچھ عرصہ جز وقتی طور پر آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ جوش صاحب اردو کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ آپ نے انجمن ترقی اردو (کراچی) اور دارالترجمہ (حیدرآباد دکن) میں بیش بہا ادبی خدمات سرانجام دیں۔

جوش صاحب بطور نغمہ نگار و مکالمہ نگار

جوش صاحب اعلیٰ پایہ کے گیت نگار اور مکالمہ نویسی بھی رہے ہیں، آپ نے نغمہ نگاری اور مکالمہ نویسی کا آغاز متحدہ ہندوستان سے کیا۔ جوش صاحب کی گیت نگاری کا آغاز 1944 میں من کی جیت نامی فلم سے ہوا جس کے درج ذیل گیت بہت مشہور ہوئے؛

نگری میری کب تک یونہی برباد رہے گی (من کی جیت 1944)*

من کاہے گھبرائے (من کی جیت 1944)*

پردیسی کیوں یاد آتا ہے (من کی جیت 1944)*

مورے جبنا کا دیکھو (من کی جیت 1944)*

اے وطن میرے وطن (غلامی 1945)*

بگڑی مری بنا دے (نینا 1946)*

جگمگ ہے سنسار (لاسٹ میسج 1949)*

چاند سا مکھڑا مسکائے (دوراہا)*

جب سے بلبل تو نے (دوراہا)*

اے وطن ہم ہیں تری شمع کے پروانوں میں (آگ کا دریا 1966)*

جوش صاحب کے شعری مجموعات اور تصنیفات درج ذیل ہیں؛

روح و ادب*

آواز حق*

شاعر کی راتیں*

جوش کے سو اشعار*

نقش و نگار*

شعلہ و شبنم*

جنون و حکومت*

فکر و نشاط*

سنبل و سلاسل*

حرف و حکایت*

سرود و خروش*

عرفانیاتِ جوش*

پیغمبر اسلام*

حسین و انقلاب*

آیات و نغمات*

عرش و فرش*

رامش و رنگ*

سنبل و سلاسل*

سیف و سبو*

سرور و خروش*

سموم و سبا*

طلوع فکر*

موجد و مفکر*

قطرہ قلزم*

نوادر جوش*

الہام و افکار*

نجوم و جواہر*

جوش کے مرثیے*

عروس ادب (حصہ اول و دوم)*

عرفانیات جوش*

محراب و مضراب*

دیوان جوش*

مقالات جوش*

اوراق زریں*

جذبات فطرت*

اشارات*

مقالات جوش

مکالمات جوش*

یادوں کی بارات (سوانح حیات)*

نمونۂ کلام

اے مسلمانو! مبارک ہو نویدِ فتح یاب

لو وہ نازل ہو رہی ہے چرخ سے اُم الکتاب

وہ اُٹھے تاریکیوں کے بامِ گردُوں سے حجاب

وہ عرب کے مطلعِ روشن سے اُبھرا آفتاب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

روحِ شاعر آج پھر ہے وجد میں آئی ہوئی

آم کے باغوں پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی

مست بھنورا گونجتا پھرتا ہے کوہ و دشت پر

روح پھرتی ہے کسی وحشی کی گھبرائی ہوئی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کل چونک کر اس نے، بقاضائے خمار

انگڑائی جو لی، ٹوٹ گیا رات کا ہار

اور سرخ ہتھیلیوں سے آنکھیں جو ملیں

ڈوروں سے ابل بڑی دو دھاری تلوار

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش

مست و بے گانہ گزر جا کرۂ خاکی سے

یہ تو ہے رہگزرِ سیلِ خیالات اے جوش

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یقین ڈوب گیا تو گماں سے کیا ہو گا

زمیں سے جو نہ ہوا، آسماں سے کیا ہو گا

مزا تو جب ہے کہ نظمِ چمن پہ چھا جاؤ

شکایتِ روشِ باغباں سے کیا ہو گا

بہار، خونِ جگر سے اُگے تو بات بنے

نوائے شکوۂ جورِ خزاں سے کیا ہو گا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں

زندگی ہوش میں ہے جوش ہے ایمانوں میں

دلِ عشاق کی مانند یہ تپتے میداں

یہ لچکتے ہوئے جنگل یہ تھرکتے ارماں

یہ پہاڑوں کی گھٹاؤں میں جوانی کی اٹھان

یہ مچلتے ہوئے دریاؤں میں انگڑائی کی شان

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حسین اور انقلاب

ہمراز یہ فسانۂ آہ و فغان نہ پوچھ

دو دن کی زندگی کا غم ایں و آں نہ پوچھ

کیا کیا حیات ارض کی ہیں تلخیاں نہ پوچھ

کس درجہ ہولناک ہے یہ داستاں نہ پوچھ

تفصیل سے کہوں تو فلک کانپنے لگے

دوزخ بھی فرطِ شرم سے کانپنے لگے

No comments:

Post a Comment