محبت میں فنا لازم
حقیقت ہے مگر سوچو
یہ کوری زندگی بھی
ایک دن انجام پائے گی
ہے کچی سانس کی ڈوری
یہ اک دن ٹوٹ جائے گی
میں اپنے سارے جذبوں کو اگر محدود بھی کر لوں
یہ چاہت اور محبت تاڑ کے رکھوں تجوری میں
فنا کو آ کے رہنا ہے
اگر اس زندگی کا موت ہی انجام ہے یارو
تو پھر کیوں نہ محبت بانٹ کے جیون گزاروں میں
کسی کی خواہشوں کو میں اگر انجام دے جاؤں
کسی مفلس کو میں آسودگی کا جام دے جاؤں
کسی مایوس کی امید کا سامان کر جاؤں
کسی کی مان کر جاؤں
محبت دان کر جاؤں
افتخار افی
افتخار عثمانی
No comments:
Post a Comment