آزار
خار زارِ جہانِ بے تاثیر
اس کے احسان مند لوگوں کو
دائرے سے نکال کر باہر
خوش گماں ہے کہ جیسے جنت ہو
فاقہ کش سانس بیچنے والے
باغیوں کی صفوں سے دور کہیں
منتظر ہیں سروشِ غیبی کے
خود سے بیزار، کم نما ہم لوگ
خلق و خالق سے بے گلہ ہم لوگ
کُل حوادث کو جو میسر ہیں
خواہشیں ڈر کے دائرے میں قید
یک صدا ہیں کہ کوئی دوش نہیں
حق سمجھتی نہیں کسی شئے پر
پاؤں ہم کو پسارنے کے لیے
چادریں ہی سرے سے چھوٹی ملیں
عبداللہ ضریم
No comments:
Post a Comment