Saturday, 1 July 2023

قرطاس ہو سفید تو ہوتے ہیں یہ سیاہ

 قرطاس ہو سفید تو ہوتے ہیں یہ سیاہ

کیونکر بنیں گے حرف تقدس کے اب گواہ

مجرم ہیں وہ بھی جو کہ ہیں لب بستہ زیرِ جور

پھر کیا گلہ جو ڈھاتے ہیں ایسوں پہ ظلم شاہ

اس خوش ادا کو دیکھ کے دل کا بیاں کیا

جاں پر بنی ہے لے کے ٹلیں گے جہاں پناہ

دامن کی خستگی سے جو غافل ہیں اپنے وہ

سیتے ہمارے چاک کو ہیں بن کے خیر خواہ

آنکھوں سے فتح کرنے کی ٹھانی ہے جی نے جب

پاتے شکست یاں ہیں، جو گِرتی ہے واں سپاہ

صیاد تھا عزیز تو،۔ پیارا قفس بھی تھا

آئے ہیں یہ جو دام میں، رکھتے تھے خود ہی چاہ

سب کھوکھلے بلند ہیں عظمت کے یاں مینار

تاریخ کو خرید کے بنتے ہیں عالی جاہ


غدیر زہرا

No comments:

Post a Comment