Monday, 3 July 2023

اول نگہ ملانے کا دکھ تھا نہیں رہا

 اول نگہ ملانے کا دُکھ تھا، نہیں رہا

پھر رائگاں بھی جانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

افراطِ گِریہ مرگ کی سوغات دے گئی

دلِ نالاں میں زمانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

حدتِ فراقِ یار نے جُھلسا دیا وجود

آ دیکھ شامیانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

شوقِ وصالِ یار کی حسرت میں مبتلا

بے گانہ کہلوانے کا دکھ تھا، نہیں رہا 

تُو فاصلے بڑھانے پہ راضی تھا، خیر تھا

مجھ کو کبھی بڑھانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

آغازِ داستانِ محبت میں تجھ کو، پھر

اجداد آزمانے کا دکھ تھا ، نہیں رہا

انجام، جینا سیکھ گئی ہوں تِرے بِنا

در غیر کا سجانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

زخمِ کُہن تمام مِرے، ہو چکے رفو

یعنی تجھے گنوانے کا دکھ تھا، نہیں رہا

شوقِ وصالِ یار ہوا ہے تمام، ہاں 

دیوانی کو دِوانے کا دکھ تھا، نہیں رہا


سیمی چوہدری

No comments:

Post a Comment