سرِ محفل نگاہوں کے اشارے دیکھتے رہنا
پلٹ کر پھر مجھے دیکھیں گے سارے دیکھتے رہنا
ستارے دیکھ کر ماں نے کہا تھا؛ تُو ستارہ ہے
نظر تم کو میں آؤں گا ستارے دیکھتے رہنا
ہمیں تاریخ داں لکھیں گے آئندہ زمانوں میں
زمانے گیت گائیں گے ہمارے، دیکھتے رہنا
میرے پہلوں میں بیٹھی وہ پری مجھ سے یہ کہتی تھی
تمہیں بھی چھوڑ جائیں گے تمہارے، دیکھتے رہنا
مزمل بانڈے
No comments:
Post a Comment