Saturday, 7 October 2023

ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے

 ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے

ظلم کے ہاتھ پہ بیعت نہیں کی جا سکتی

میں نے کربل کے شہیدوں سے سبق سیکھا ہے

بیچ کر دِین، تجارت نہیں کی جا سکتی

قفس کی چار دیواری پہ لہو بولے گا

سنگلاخوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی

جبر سے، ظلم سے، طاقت کے نشے سے، ہرگز

دل پہ لوگوں کے حکومت نہیں کی جا سکتی

دھیان سجدوں میں رکوع میں بھی تِرا رہتا ہے

تُو نہیں ہے تو عبادت نہیں کی جا سکتی

ہم کوئی بچے نہیں اس نے کہا تھا مجھ سے

اس کا مطلب ہے شرارت نہیں کی جا سکتی

تُو پسند ہے مجھے پیارا بھی بہت ہے لیکن

ہر کسی سے تو محبت نہیں کی جا سکتی

لب سیئے، اشک پئیے، اور کفن اوڑھ لیا

اس سے زیادہ تو شکایت نہیں کی جا سکتی

تُو نے توڑے ہیں بلا جرم کئی دل سانول

اب بھلے تڑپ رعایت نہیں کی جا سکتی


سانول حیدری

No comments:

Post a Comment