ہم حسینی جو ہوئے طے ہے کہ سر ہی دیں گے
ظلم کے ہاتھ پہ بیعت نہیں کی جا سکتی
میں نے کربل کے شہیدوں سے سبق سیکھا ہے
بیچ کر دِین، تجارت نہیں کی جا سکتی
قفس کی چار دیواری پہ لہو بولے گا
سنگلاخوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی
جبر سے، ظلم سے، طاقت کے نشے سے، ہرگز
دل پہ لوگوں کے حکومت نہیں کی جا سکتی
دھیان سجدوں میں رکوع میں بھی تِرا رہتا ہے
تُو نہیں ہے تو عبادت نہیں کی جا سکتی
ہم کوئی بچے نہیں اس نے کہا تھا مجھ سے
اس کا مطلب ہے شرارت نہیں کی جا سکتی
تُو پسند ہے مجھے پیارا بھی بہت ہے لیکن
ہر کسی سے تو محبت نہیں کی جا سکتی
لب سیئے، اشک پئیے، اور کفن اوڑھ لیا
اس سے زیادہ تو شکایت نہیں کی جا سکتی
تُو نے توڑے ہیں بلا جرم کئی دل سانول
اب بھلے تڑپ رعایت نہیں کی جا سکتی
سانول حیدری
No comments:
Post a Comment