شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا
کِیا تھا جبر عدالت نے، فیصلہ تو نہ تھا
کشان،۔ گپتا،۔ غزنی،۔ مغل و درانی
بجنگ آئے تھے، مذہب سے واسطہ تو نہ تھا
بہت سے شہر بسے تھے ہماری دھرتی پر
پر ایک دوجے کو جانے کا راستہ تو نہ تھا
فصیلِ شہر بنی تو کُھلا مکینوں پر
کہ قید خانہ تھا ہر سُو شہر رہا تو نہ تھا
یہ اعتزاز پہ احسان کر دیا تُو نے
وگرنہ قید سے یہ شخص آشنا تو نہ تھا
اعتزاز احسن
No comments:
Post a Comment