Tuesday, 9 January 2024

تمہارے ہجر میں اتنے اداس رہتے ہیں

 تمہارے ہجر میں اتنے اُداس رہتے ہیں

کہ کوئی ہوش نہ ہم کو حواس رہتے ہیں

تمہارے لمس کی خُوشبو سے جو معطر تھے

مِرے لباس وہ اکثر اُداس رہتے ہیں

تِری طلب تھی سو تجھ پر نثار کی خوشیاں

تمہارے دُکھ ہی فقط آس پاس رہتے ہیں

چکور چاند جو پانے کی آس رکھتا ہے

تمہارے قُرب کے یوں محوِ آس رہتے ہیں

کبھی تو آہ بھی بلبل کی سُن کے روتے تھے

شدید درد میں اب بے حواس رہتے ہیں

کسے سُناؤں میں اور کون دردِ دل سمجھے

کہاں پہ شہر میں اب غم شناس رہتے ہیں

عمر زمانے میں اپنا رفیق کوئی نہیں

دو چار غم ہیں کسی کے جو پاس رہتے ہیں


عمر یعقوب

No comments:

Post a Comment