Sunday, 28 January 2024

ہم جیسے دل مضطر کی طرح زخموں کا مداوا کون کرے

ہم جیسے دلِ مُضطر کی طرح زخموں کا مداوا کون کرے

اک چارہ گر! دل کی خاطر پھر طُرفہ تماشا کون کرے

طُوفان سے بچنے کی خاطر ساحل سے تقاضا کون کرے

موسم تو بدلتا رہتا ہے، موسم کا بھروسہ کون کرے

گرداب تلاطم، موج سفر، مستول سفینہ، ساحل ریت

ان سب سے اُلجھنے والوں میں دریا سے کنارہ کون کرے

کچھ کام قناعت سے بھی لو کچھ خواب ادھورے رہنے دو

قطرے میں سمایا ہو دریا تو پیاس کو رُسوا کون کرے

آلام کی افراتفری میں انسان جیے تو کیسے بھلا

مرنا بھی جہاں آسان نہ ہو جینے کی تمنّا کون کرے

ہے داؤں پر اپنی جان مگر لب پر نہ کوئی شِکوہ نہ گِلہ

اب عشق کے کاروبار میں بھی تِل بھر بھی خسارہ کون کرے

دل اس کی طرف ہے جس کی طرف دنیا ہے مِری آنکھیں ہیں عکس

کیا اس سے زیادہ اور کہوں ظاہر میں اشارہ کون کرے


عکس لکھنوی

No comments:

Post a Comment