Monday, 8 January 2024

رجب ماہ فضیلت ہے کھلا مدحت کا باب ایسا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رجب ماہِ فضیلت ہے، کُھلا مدحت کا باب ایسا

بڑھا کعبے کا جلوہ، اُس میں اُترا آفتاب ایسا

دو عالم میں رہے گی جس کی خُوشبو تا ابد باقی

کِھلا بنتِ اسدؑ کے گُلستاں میں ہے گُلاب ایسا

امامت کی چمک بھی ہے، خُدائی کی جھلک بھی ہے

علیؑ کے رُخ پہ خود اللہ نے ڈالا نقاب ایسا

فضیلت آشنا وہ بھی تھا جو مولاؑ کے گھر اُترا 

ستارہ کیسے کر سکتا تھا ورنہ انتخاب ایسا

عَلَم کرّار کا کیسے کسی فرّار کو مِلتا

تو کچھ لوگوں نے پھر خیبر میں کیوں دیکھا تھا خواب ایسا

نوا معراج میں ایسی، نبیؐ مانوس تھے جس سے

عیاں کچھ تھا، نہاں کچھ تھا کہ حائل تھا حجاب ایسا

رُخِ سرکارﷺ دیکھا کھولتے ہی آنکھ کعبے میں

ہُوا پھر آنکھوں آنکھوں میں سوال ایسا، جواب ایسا

سلونی کہنے والا پھر نہیں آیا سرِ منبر

قیامت تک نہ اب ہو گا خطیب ایسا، خطاب ایسا

گواہی سے خلابازوں کی دُنیا کو یقیں آیا

نشاں باقی ہے اب تک، شق ہُوا تھا ماہتاب ایسا

بجُز بُو طالبؑ و حیدرؑ، بجُز عباسؑ بِن حیدرؑ

کمال آخر وفا کا کس نے لِکھا ہے نصاب ایسا


حسن اکبر کمال

No comments:

Post a Comment