Wednesday, 3 January 2024

ان کے در پر گئے گرد راہ سفر جسم پر رکھ کے ہم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُنؐ کے دَر پر گئے گردِ راہِ سفر جسم پر رکھ کے ہم

اور پھر یہ ہُوا، پہروں روتے رہے در پہ سر رکھ کے ہم

راستوں کی ہوا رہنما بن گئی، سارباں بن گئی

جب چراغ ان کی چاہت کا لےکر چلے ہاتھ پر رکھ کے ہم

جِس کی تقدیر میں فرق کوئی نہیں، شام کوئی نہیں

نُور کے شہر سے لائے ہیں، آنکھ میں وہ سحر رکھ کے ہم

اپنے رب سے دُعا مانگتے وقت اب شرم آتی نہیں

اُنؐ کی دہلیز سے آئے اپنی دعا میں اثر رکھ کے ہم

اپنی ہر رات رکھتے ہیں روشن بہت، اور معطّر بہت

اِک چراغِ وفا اُنؐ کی یادوں بھرے طاق پر رکھ کے ہم


اختر لکھنوی

No comments:

Post a Comment