عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں نے سب چہروں کو دیکھا سب پر تیرا نام لکھا ہے
تُو نے لاکھ چُھپایا خُود کو، پھر بھی تجھ کو دیکھ لیا ہے
تُو ہی تو اس رنگ برنگی پیاری دُنیا کا ہے خالق
لاکھ سمندر لکھ نہ سکیں گے وصف تِرے، تُو اتنا بڑا ہے
مالک بھی اس دل کا تُو ہے، تُو ہی ہے اس دل کا مکیں
تنہائی کے صحراؤں میں جب دیکھو تُو ساتھ کھڑا ہے
اُس کے خزانے، اُس کے زمانے، اُس کی امانت، اُس کے امیں
ہم تو اتنا سوچ سکیں گے،۔ جتنا تُو ہم پر اُترا ہے
کوئی مانے، چاہے نہ مانے، رازق ہے تُو، داتا ہے تُو
تیرے لُطف و کرم کا بادل، سب کے آنگن میں برسا ہے
آج بھی سب اپنی ضِد پر ہیں، کل بھی اپنی ضِد پر تھے
تُو انساں کی خیر و بقاء کو کتنے صحیفوں میں اُترا ہے
نسیم مخموری
No comments:
Post a Comment